Wednesday, January 30, 2013

گزل

یاد آ رہی ہیں وو پرسکون راتیں
کرتے تھے دیر تک چاندنی میں باتیں

جلدی سے اپنے ذھن میں بیٹھا لو
اب ہیں کہاں وو کلم اور دواتیں

گیا دؤر انکا یہ کوئی کیسے جانے
ہر غڑی سجتی ہیں زرم کی باراتیں

آکر سنا دے تو دو بول پیار کے
لگتے ہیں کہاں اب انکی جماتیں

نفرت کے دھاگوں سے بندھے ہیں سحر
آؤملکے کوئی نیا سوت کاٹیں

Monday, January 21, 2013

کتات



زمین سے آسمان تک لے جاتا ہے
نہ جانے وو کہاں تک لے جاتا ہے
گر ہو ناراض کبھی کیسے سے تو
سب کچھ چھین کر لے جاتا ہے

دوست مصیبت میں کام آتا ہے
حوصلہ مصیبت میں کام آتا ہے
آتا ہے برا وقت سب پر یارو
خدا ہر مصیبت میں کام آتا ہے

دوا ہر مرض میں کام کرتی ہے
وفا دوستی میں کام کرتی ہے
شق دوستی میں گھر بنا لے تو
وفا دشمنی کا کام کرتی ہے

Wednesday, January 2, 2013

گزل


زہن تو حق کی بات کرتا ہے

مگر دل اسکی کہاں سنتا ہے

نفرت کی سوچیں یہاں کیسے

موحبّت کو وقت کہاں ملتا ہے

بے-پناہ موحبّت ہے ہمیں اسسے

نفرت جو شخص یہاں کرتا ہے

یاد آتا ہوں میں خیالوں میں اکثر 

بھولنے کی کوشش جو بارہا کرتا ہے

کھو گیا وہ میری زندگی سے آخر

خیالوں میں ہمیشہ جو پریشان کرتا ہے

دلیےناداں نہ جانے کیا کہتا ہے سحر

پاگل ہے وو جو خود پی گماں کرتا ہے

Tuesday, December 11, 2012

گزل


جب میرے آگے سے کوی شخص گزر جاتا ہے
ہر ایک  چہرے میں تیرا عکس نظر آتا ہے


بھولنے کی تو کوی شرط لگا نہیں سکتا
جتنا بھولوں اسے اتنا مجھے یاد آتا ہے


دل سے نکلی ہوئی فریاد سنی جایگی
حادثہ جو ہوا بےوقت مجھے یاد آتا ہے


دل سے دیا ساتھ جسکا تنہایوں میں
وو میرا دوست ہے اکثر مجھے بھول جاتا ہے


کیا کریں اسسے شکایت ذرا بتلاؤ سحر
اپنا سیا بھی برے وقت میں چھوڈ جاتا ہے

Thursday, November 22, 2012

گزل




آج فر میرا دل یوں اداس ہوا ہے 

جیسے پانڈوں کو کوئی اگیاتواس ہوا ہے


بےامانوں کے ہو گے یہاں پو بارہ 

شریفوں کو فر کاراواس ہوا ہے


بولتے ہیں ہندی سب فٹافٹ لیکن

راجبھاشا کا فر بھی ہراس ہوا ہے


کھل سیاست کا ذرا دیکھو یارو

عام  شخص ہر ایک یہاں خاص ہوا ہے
  
مطلب کا ہے برتاؤ اپنی دنیا میں 
بےمطلب نہیں یہاں کوئی داس ہوا ہے


کیا ہمسے کنارہ اپنوں نے سحر

ایک دوست دور کا لیکن پاس ہوا ہے

Wednesday, October 17, 2012

گزل

ذھنودل آج تک مہتر ہے


کتنی دلکش تھی رات پھولوں کی


روح کو تازگی سی ملتے ہے


جب بھی ہوتے ہے بات پھولوں کی


رنگ، خوشبو، بہار اور نکہت


ہے عجب کاینات پھولوں کی



اب تو پورے شواب پر ہے بہار


دیکھنی ہے برات پھولوں کی


گلستان کو اجاڑنے والا

اب بھی کرتا ہے بات پھولوں ک


کھلنا اور کھل کے خاک میں ملنا

بس! یاہے ہے حیات پھولوں کی


اسرے-کلم :- جناب بنیاد حسین زہین بکانےری 

Tuesday, September 18, 2012

گزل

یہ زندگی کا مقدّر ہے کیہ کیا جاۓ 
قضاء کا وقت مکرر ہے کیہ کیا جاۓ

ہر ایک نگاہ کے اندر ہے کیہ کیا جاۓ
بہت ڈراونا منظر ہے کیہ کیا جاۓ

حسین سے بھی ہنسیتر ہے کیہ کیا جاۓ
تیرے خیال کا پیکر ہے کیہ کیا جاۓ

ہر ایک شخص کے دل میں ہے خواہشوں کا ہجوم
طلب سبھی کی برابر ہے کیہ کیا جاۓ

یہ جان جسم سے ہو سکتیہے جدہ لیکن
یہ میری روح کے اندر ہے کیہ کیا جاۓ

جو گیت دارو-رسن کا نہ گا سکا کوئی 
وو صرف میری زبان پر ہے کیہ کیا جاۓ

وو جسکے نام سے بدنام ہوا تھا کبھی 
فر اسکا نام زبان پر ہے کیہ کیا جاۓ

وو جیست میں جسے سہرا سمجھ رہا تھا زہین
مصیبتوں کا سمندر ہے کیہ کیا جاۓ

اسرےکلم جناب بنیاد حسسین بکانیری-